*🌹میت کو دفن کرکے اس کے گھر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے🌹*
*لوگوں میں رسوم ہے کہ میّت کو دفن کرکے اس کے مکان میں آتے ہیں او رکہتے ہیں فاتحہ پڑھ لو، پھر کچھ پڑھتے ہیں او ر ہاتھ اٹھاتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے ؟ بینو توجروا*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*اصل اس فعل میں کوئی حرج نہیں کہ ایصال ثواب سے اموات کی اعانت اور ان کےلئے دعائے مغفرت اور پسماندوں کو تسکین وتعزیت سب باتیں شرعاً محمود و روا۔*
*فقد روی الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن عزی مصابا فلہ مثل الجرہ و ایضا*
*ترمذی کی روایت نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے تو اسے بھی اسی کی طرح اجر ملے۔*
*📚جامع الترمذی ابواب الجنائز کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۲۷)*
*امام ترمذی ہی کی دوسری روایت حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ ہے:*
*❔جو مرگِ فرزندکی مصیبت زدہ کسی عورت کو تعزیت کرے اسے جنت میں عمدہ چادر پہنائی جائے،*
*📖(۲ جامع الترمذی ابواب الجنائز کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۲۷)*
*وابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مامن مومن یعزی اخاہ بمصیبۃ الاکساہ اﷲ تعالٰی من حلل الکرامۃ یوم القٰیمۃ*
*ابن ماجہ او ربہیقی نے بسند حسن روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:*
*جو مومن بھی کسی مصیبت پر اپنے بھائی کی تعزیت کرے خدا تعالٰی اسے قیامت کے دن عزت و کرامت کا لباس پہنائے گا*
*📑سنن ابن ماجہ*
*باب ماجاء فی ثواب من عزی مصاباً ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۶)*
*علامہ ابن الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :*
*التعزیۃ مستحب قد ندب الیہ الشارع فی غیرماحدیث ومن ذلک ماروی ابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن الٰی ان قال وحسن ان یقرن مع الدعاء لہ بجزیل الثواب علی مصابہ لمیّتہ بالرحمۃ والمغفرۃ و قد نبھنا الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ھذا المقصود فی غیرما حدیث الخ اھ ملخصا۔*
*تعزیت مستحب ہے شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں اس کی ترغیب دی ہے، ان میں سے ایک حدیث ہو ہے جسے ابن ماجہ وبہیقی نے بسندِ حسن روایت کیا (حدیث مذکور پیش کرنے کے بعد فرمایا) او ر اچھا یہ ہے کہ مصیبت زدہ کے لئے عظیم ثواب کی دعا کرنے کے ساتھ اس کے مردے کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا بھی کرے۔ اس خاص مقصد پر بھی شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں ہمیں متنبہ اور خبردار کیا ہے الخ اھ تلخیص*
*📚حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی*
*اور میاں اسحٰق صاحب دہلوی کو تسلیم ہے کہ ہاتھ اٹھانا مطلقاً دعا کے آداب سے ہے۔ توا س وقت بھی کچھ مضائقہ نہیں رکھتا*
*📙فتاوی رضویہ کتاب الجنائز*
*واللہ اعلم ورسولہ*
*ـــــــــــــــــ💠♦💠ــــــــــــــــــ*
*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*♦اعـلــی حضــرت زندہ بـاد گروپ میں ایڈکے لئے♦*👇
*📲+919918562794*
*ـــــــــــــــــ💠♦💠ـــــــــــــــــــ*
*🖥المـرتـب گـدائےاولیـائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*ـــــــــــــــــ💠♦💠ــــــــــــــــــ*
*لوگوں میں رسوم ہے کہ میّت کو دفن کرکے اس کے مکان میں آتے ہیں او رکہتے ہیں فاتحہ پڑھ لو، پھر کچھ پڑھتے ہیں او ر ہاتھ اٹھاتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے ؟ بینو توجروا*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*اصل اس فعل میں کوئی حرج نہیں کہ ایصال ثواب سے اموات کی اعانت اور ان کےلئے دعائے مغفرت اور پسماندوں کو تسکین وتعزیت سب باتیں شرعاً محمود و روا۔*
*فقد روی الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن عزی مصابا فلہ مثل الجرہ و ایضا*
*ترمذی کی روایت نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے تو اسے بھی اسی کی طرح اجر ملے۔*
*📚جامع الترمذی ابواب الجنائز کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۲۷)*
*امام ترمذی ہی کی دوسری روایت حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ ہے:*
*❔جو مرگِ فرزندکی مصیبت زدہ کسی عورت کو تعزیت کرے اسے جنت میں عمدہ چادر پہنائی جائے،*
*📖(۲ جامع الترمذی ابواب الجنائز کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۲۷)*
*وابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مامن مومن یعزی اخاہ بمصیبۃ الاکساہ اﷲ تعالٰی من حلل الکرامۃ یوم القٰیمۃ*
*ابن ماجہ او ربہیقی نے بسند حسن روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:*
*جو مومن بھی کسی مصیبت پر اپنے بھائی کی تعزیت کرے خدا تعالٰی اسے قیامت کے دن عزت و کرامت کا لباس پہنائے گا*
*📑سنن ابن ماجہ*
*باب ماجاء فی ثواب من عزی مصاباً ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۶)*
*علامہ ابن الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :*
*التعزیۃ مستحب قد ندب الیہ الشارع فی غیرماحدیث ومن ذلک ماروی ابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن الٰی ان قال وحسن ان یقرن مع الدعاء لہ بجزیل الثواب علی مصابہ لمیّتہ بالرحمۃ والمغفرۃ و قد نبھنا الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ھذا المقصود فی غیرما حدیث الخ اھ ملخصا۔*
*تعزیت مستحب ہے شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں اس کی ترغیب دی ہے، ان میں سے ایک حدیث ہو ہے جسے ابن ماجہ وبہیقی نے بسندِ حسن روایت کیا (حدیث مذکور پیش کرنے کے بعد فرمایا) او ر اچھا یہ ہے کہ مصیبت زدہ کے لئے عظیم ثواب کی دعا کرنے کے ساتھ اس کے مردے کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا بھی کرے۔ اس خاص مقصد پر بھی شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں ہمیں متنبہ اور خبردار کیا ہے الخ اھ تلخیص*
*📚حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی*
*اور میاں اسحٰق صاحب دہلوی کو تسلیم ہے کہ ہاتھ اٹھانا مطلقاً دعا کے آداب سے ہے۔ توا س وقت بھی کچھ مضائقہ نہیں رکھتا*
*📙فتاوی رضویہ کتاب الجنائز*
*واللہ اعلم ورسولہ*
*ـــــــــــــــــ💠♦💠ــــــــــــــــــ*
*✍ازقلم حضرت علامہ ومولانا محمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*
*♦اعـلــی حضــرت زندہ بـاد گروپ میں ایڈکے لئے♦*👇
*📲+919918562794*
*ـــــــــــــــــ💠♦💠ـــــــــــــــــــ*
*🖥المـرتـب گـدائےاولیـائے کرام*
*محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی*
*ـــــــــــــــــ💠♦💠ــــــــــــــــــ*
تبصرے