نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بیوی بیمار ہو جائے تو کیا دوائی کا خرچہ شوہر کے ذمہ ہے؟؟

*🖊بیوی بیمار ہوجائے تو کیادوائ کا خرچہ شوہر کے ذمہ ہے؟🖊*


 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia


 السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ
بعد سلام عرض ہے کہ بیوی بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کس کے ذمہ ہے قانون شریعت میں ہے کہ بیوی اگر بیمار ہو جائے تو اس کا علاج شوہر پر واجب نہیں ہے
برائے مہربانی تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں
عین نوازش ہوگی
سائل محمد اشتیاق عالم کٹیہار بہار؛
ا________(📌)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
نفقہ وخرچ دواوعلاج کا مطالبہ شوہر سے نہیں ہوسکتا
*(📘درمختار میں ہے)*
*لاتصیردیناالابالقضاء اوالرضاء وبموت احدھما وطلاقھا یسقط المفروض لانھا صلۃ* *الااذااستدانت بامرالقاضی؛*

نفقہ خاوند کے ذمہ قرض نہیں بنتا تاوقتیکہ قاضی کا مقرر کردہ یا باہمی رضامندی سے طے کردہ نہ ہو، اور خاوند بیوی دونوں میں سے ایک کی موت یا طلاق سے نفقہ ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ یہ صلہ کے طور پر لازم ہوتاہے، ہاں اگر قاضی کے حکم پر بیوی نے قرض لے رکھا ہو تو پھر خاوند کو اس کی ادائیگی لازم ہوگی
*(📕درمختارباب النفقۃمطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۷۰)*
*(📙ردالمحتار میں ہے)*

*علیہ ماتقطع بہ الصنان لاالدواء للمرض ولااجرۃ الطبیب ولاالفصاد ولاالحجام؛*

خاوند پر بدن کی حفاظت والی چیز لازم ہے۔ مرض کیلئے دوا، طبیب کی اجرت، فصد یا سنگی لگانے کی اجرت لازم نہیں ہے

*(📗ردالمحتار باب)*

 *النفقۃداراحیاء التراث العربی بیروت  ۲/ ۶۴۹)*

یونہی خرچ تجہیز وتکفین بھی مجرا نہ ملے گا جبکہ والدین خواہ کسی نے بے اذن شوہر بطور خود کیا،
*(فی اواخر وصایا ردالمحتار عن حاشیۃ الفصولین للرملی، الزوجۃ اذاصرفہ من مالہ غیرالزوج بلااذانہ اواذن القاضی فھو متبرع کالاجنبی)*

*(📙ردالمحتار)*

میں وصایا کی بحث کے آخر میں فصولین پر رملی کے حاشیہ سے منقول ہے کہ اگرکسی نے خاوند یا قاضی کی اجازت کے بغیر اس کی بیوی کو کفن دیا تو یہ خرچہ صرف کرنے والے کی طرف سے مفت ہوگا جیسا کہ کوئی اجنبی اپنی طرف سے مفت خرچ کردے
 *(📚ردالمحتارفصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۴۵۹)*

جہیز ملک و ترکہ ہندہ ہے برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر و تقدیم دین ووصیت چھ سہام ہو کر تین سہم شوہر، دو سہم پدر، ایک مادر کوملے گا۔ اسی حساب سے مہر ہندہ اگر باقی ہوتقسیم ہوگا۔
*(📕فتاوی رضویہ جلد13 کتاب الطلاق)*
*وﷲ تعالٰی اعلم*
 ا________(🖌)__________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛*
*مورخہ؛26/10/2019)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9918562794)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.