نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

روزہ کی حالت میں آنکھ میں دواڈالناکیساہے🖊*


*🖊 روزہ کی حالت میں آنکھ میں دواڈالناکیساہے🖊* 



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

علمائےکرام توجہ فرمائیں ۔ روزے کی حالت میں آنکھ میں ڈراپ ڈالنا کیساھے؟ ڈراپ ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائےگا یا نہیں؟ بینواتوجروا ۔ یہ مسئلہ باحوالہ ذرا جلدی بتائیں ۔ مہربانی ھوگی ۔

سائل *غلام اشرف* اشرفی

 ا________(🖊)__________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*الجواب بعون الملک الوھاب

آنکھ میں دوا ڈالنے سے اگرچہ اس کا اثر حلق میں محسوس ہوتو بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا

کیونکہ کئی احادیث میں یہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزہ کی حالت میں سرمہ لگایاتھا،دوسری وجہ یہ ہے کہ آنکھ میں جو دوا وغیرہ ڈالی جاتی ہے وہ ناک کے اندرونی حصے کے ذریعےحلق تک پہنچتی ہے،کیونکہ آنکھوں سے دوراستےناک تک آتے ہیں ، یہ منافذ چھوٹے ہونے کی وجہ سے مسامات کے ساتھ ملحق کیے گیے ہیں،اس وجہ سے احناف اور شوافع کے نزدیک آنکھ منافذ معتبرہ لفساد الصوم میں سے نہیں ہے

لہٰذا جس طرح مسام کے ذریعے کوئی چیز جوف (پیٹ) تک پہنچ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا اسی طرح آنکھ کے ذریعے دوا وغیرہ ڈالنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا

 *📙سنن ابن ماجه (1 / 536)

عن عائشة قالت اكتحل رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو صائم

 *📗سنن الترمذي (3 / 96)* 

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اشْتَكَتْ عَيْنِي، أَفَأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ نَعَمْ

 روزہ کی حالت میں ضرورت کے وقت آنکھ میں دوا ڈالنا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ دوا کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو

ولو اقطر شیئاً من الدواء في عینه لا یفطر صومه عندنا وإن وجد طعمه في حلقه

 *(📘الفتاوی الهندية۱:۲۰۳، الباب الرابع فیما یفسد وما لایفسد* 

تیل یا سُرمہ کا مزہ حلق میں  محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو، جب بھی روزہ  نہیں  ٹوٹا

 *(📕الجوہرۃ النیرۃکتاب الصومص۱۷۹* *وردالمحتارکتاب الصوم باب مایفسدالصوم ومالایفسدہ ؛مطلب یکرہ السھر الخ ؛ جلد۳، صفحہ ۴۲۱)* 

 *و بہار شریعت حصہ پنجم* ان چیزوں کا بیان جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا

روزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے میں حرج نہیں کیوں کہ اس کے بارے میں ضابطہ کلیہ ہے کہ جماع اور اس کے ملحقات کے علاوہ روزہ توڑنے والی صرف وہ دوا اور غذا ہے جو مسامات اور رگوں کے علاوہ کی منفذ ( سوراخ)  سے صرف دماغ یا پیٹ میں پہنچے ــ اور ظاہر ہے کہ وہ دوا جو آنکھ میں ڈالی جائےگی اس کا اثر مسام ہی کے ذریعہ ظاہر ہوگا اس لئے کہ آنکھ سے پیٹ یا دماغ تک کوئی دوسرا منفذ نہیں اور یہ مفسد صوم نہیں  اب اس روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ روزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے میں حرج نہیں

  *(📙فتاویٰ بریلی شریف صفحہ 371)* 

آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے اگرچہ دوا کا مزہ حلق میں محسوس ہو

 *(📘روزہ کے ضروری مسائل صفحہ 35)* 

 *(📗ومجلس شرعی کے فیصلے ص 283)*


*واللہ اعلم باالصواب؛*


 ا________(🖌)__________

*کتبـــہ؛*

 **حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی رضوی قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی* دولھاپورپہاڑی پوسٹ وتھانہ انٹیاتھوک بازارضلع گونڈہ یوپی الھند



*مورخہ؛28/02/2020)*

*🖊اعلی حضرت زندہ باد گروپ🖊*

*رابطہ؛📞9918562794)*

ا________(🖊)__________

*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*

*منجانب؛منتظمین اعلی حضرت زندہ باد گروپ محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری؛*

ا________(🖊)___________

 *📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*

*میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👇🏻*

*https://wa.me/+919918562794*


*اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ میں جواٸن ہونے کے لٸے اس لنک پرکلک کریں👇🏻* https://chat.whatsapp.com/E1nwoj645z45MmLWY7u3Pz


*ٹیلی گرام گروپ میں جواٸن ہونے کےلٸے اس لنک پرکلک کریں:👇*

  http://T.me/AalahzratZindabadGroup

*گوگل پر پڑھنے کے لئے اس لنک پرکلک کریں👇🏻👇🏻*

https://amjadigroup.blogspot.com/

ا________(🖊)__________


محمد سرفراز قادری 

© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.