نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مغرب میں تین ہی رکعت کیوں؟دویاچارکیوں نہیں-اورنمازوں میں دویاچارکیوں؟🖊*


*🖊مغرب میں تین ہی رکعت کیوں؟دویاچارکیوں نہیں-اورنمازوں میں دویاچارکیوں؟🖊* 




السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

 بعد ۂ خدمت عالیہ میں گزارش ہے کہ مغرب کی یہ جو تین رکعتیں ہیں تین رکعتیں کیوں ہوئ چار یا دو رکعتیں بھی ہو سکتی لیکن تین رکعتیں کیوں ہو ئ اگر کسی کو جواب معلوم ہو تو جواب عنایت فرماۓ مہربانی ہو گی،


ساںُل *محمد ساجد رضا* بنگال

ا________(🖊)__________           

 *الجواب بعون الملک الوھاب* 

 قول امام عبیدالله  بن عائشہ ممدوح کہ جب آدم عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کی توبہ وقتِ فجر قبول ہُوئی انہوں نے دو۲ رکعتیں پڑھیں وہ نماز صبح ہُوئی 

اور اسحٰق عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کا فدیہ وقت ظہر آیا ابرہیم عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے چار پڑھیں وہ ظہر مقرر ہوئی عزیر علیہ السّلام سو۱۰۰ برس کے بعد عصر کے وقت زندہ کئے گئے انہوں نے چار پڑھیں وہ عصر ہُوئی داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توبہ وقتِ مغرب قبول ہُوئی چار رکعتیں پڑھنے کھڑے ہوئے تھك کر تیسری پر بیٹھ گئے ، مغرب کی تین ہی رہیں  اور عشاء سب سے پہلے ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے پڑھی

 *رواہ کماذکرنا الامام الطحاوی* قال 

حدثنا القاسم بن جعفر قال سمعت بحر بن الحکم الکیسانی قال سمعت ابا عبدالرحمٰن بن محمد ابن عائشۃ یقول ، فذکرہ

جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے اسی کے مطابق اس کو طحاوی نے روایت کیا ہے کہ قاسم ابن جعفر نے بحر ابن حکم کیسانی سے ، اس نے ابوعبدالرحمن عبدالله  ابن محمد ابن عائشہ سے سُنا اس کے بعد سابقہ روایت بیان کی ہے۔

دوم قول امام ابوالفضل کہ سب سے پہلے فجر کو دو۲ رکعتیں حضرت آدم ، ظہر کو چار رکعتیں حضرت ابرہیم ، عصر حضرت یونس ، مغرب حضرت عیسٰی ، عشاء حضرت موسٰی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی۔ ذکرہ الامام الزندوستی فی روضتہ قال سألت ابا الفضل فذکرہ

اس کو امام زندوستی نے اپنی روضہ میں ابو الفضل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ کہا میں نے ابو الفضل سے پُوچھا تو انہوں نے یہ ذکر کیا

 یہ حکایت ایك لطیف کلام پر مشتمل ہے لہذا اُس کا خلاصہ لکھیں امام زندوستی فرماتے ہیں میں نے امام ابوالفضل سے پوچھا صبح کی دو۲ رکعتیں ظہر وعصر وعشاء کی چار مغرب کی تین کیوں ہوئیں ۔ فرمایا حکم۔ میں نے کہا مجھے اور ابھی افادہ کیجئے۔ کہا ہر نماز ایك نبی نے پڑھی ہے ، آدم علیہ الصلوٰۃ والسّلام جب جنّت سے زمین پر تشریف لائے دنیا آنکھوں میں تاریك تھی اور ادھر رات کی اندھیری آئی ، انہوں نے رات کہاں دیکھی تھی بہت خائف ہُوئے ، جب صبح چمکی دو۲ رکعتیں شکرِ الٰہی کی پڑھیں ، ایك اس کا شکر کہ تاریکی شب سے نجات ملی دوسرا اس کا کہ دن کی روشنی پائی انہوں نے نفل پڑھی تھیں ہم پر فرض کی گئیں کہ ہم سے گناہوں کی تاریکی دُور ہو اور طاعت کا نُور حاصل۔ زوال کے بعد سب سے پہلے ابراہیم عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے چار رکعت پڑھیں جبکہ اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ اُترا ہے پہلی اس کے شکر میں کہ بیٹے کا غم دُور ہوا دوسری فدیہ آنے کے سبب ، تیسری رضائے مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کا شکر ، چوتھی اس کے شکر میں کہ الله  عزوجل کے حکم پر اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے گردن رکھ دی ، یہ ان کے نفل تھے ہم پر فرض ہُوئیں کہ مولٰی تعالٰی ہمیں قتلِ نفس پر قدرت دے جیسی اُنہیں ذبحِ ولد پر قدرت دی اور ہمیں بھی غم سے نجات دے اور یہود ونصارٰی کو ہمارا فدیہ کرکے نار سے ہمیں بچالے اور ہم سے بھی راضی ہو۔ نمازِ عصر سب سے پہلے یونس علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے پڑھی کہ اس وقت مولٰی تعالٰی نے انہیں چار۴ ظلمتوں سے نجات دی  ظلمتِ لغزش ، ظلمتِ غم  ، ظلمتِ دریا ، ظلمتِ شکمِ ماہی۔ یہ اُن کے نفل تھے ہم پر فرض ہوئی کہ ہمیں مولٰی تعالٰی ظلمتِ گناہ وظلمتِ قبر وظلمتِ قیامت وظلمتِ دوزخ سے پناہ دے۔ 

مغرب سب سے پہلے عیسٰی علیہ الصّلوٰۃ والسلام نے پڑھی  پہلی اپنے سے نفی الوہیت ، دوسری اپنی ماں سے نفی الوہیت ، تیسری الله  عزوجل کے لئے اثباتِ الوہیت کیلئے۔ یہ ان کے نفل ہم پر فرض ہُوئے کہ روزِ قیامت ہم پر حساب آسان ہو ، نار سے نجات ہو ، اُس بڑی گھبراہٹ سے پناہ ہو۔

 اقول اور مقام سے مناسب تر یہ تھا کہ یوں فرماتے کہ ہم اپنی خودی اور فخرِ آبأ سے باہر آکر الله  عزّوجل کے لئے خاص متواضع ہوں 

سب سے پہلے عشاء مُوسٰی علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے پڑھی جب مدائن سے چل کر راستہ بھُول گئے۔ بی بی کا غم ، اولاد کی فکر ، بھائی پر اندیشہ ، فرعون سے خوف ، جب وادیِ ایمن میں رات کے وقت مولٰی تعالٰی نے اِن سب فکروں سے انہیں نجات بخشی ، چار نفل شکرانے کے پڑھے ہم پر فرض ہُوئی کہ الله  تعالٰی ہمیں بھی راہ دکھائے ہمارے بھی کام بنائے ہمیں اپنے محبوبوں سے ملائے دشمنوں پر فتح دے آمین

سوم قول بعض علماء کہ فجر آدم ، ظہر ابراہیم ، عصر سلیمان ، مغرب عیسٰی علیہم الصلاۃ والسلام نے پڑھی اور عشا خاص اس اُمّت کو ملی کماتقدم عن الحلیۃ 

جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے گزرا

ہے۔

چہارم وہ حدیث کہ امام اجل رافعی نے شرح مسند میں ذکر فرمائی کہ صبح آدم ، ظہر داؤد ، عصر سلیمٰن ، مغرب یعقوب ، عشاء یونس علیہم الصلاۃ والسلام سے ہے ذکرہ عنہ الزرقانی فی شرح المواھب والحلبی تماما فی الحلیۃ قال واورد فی ذلك خبرا 

 اس کو زرقانی نے شرح مواہب میں رافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور حلبی نے حلیہ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے ، حلبی نے کہا کہ رافعی نے اس سلسلے میں ایك روایت پیش کی ہے غرض نماز صبح میں چاروں متفق ہیں باقی چار میں اختلاف

 *(📗فتاوی رضویہ جلد پنجم )* 


*واللہ اعلم باالصواب؛*



 ا________(🖌)__________

*کتبـــہ؛*

 **حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی رضوی قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی* دولھاپورپہاڑی پوسٹ وتھانہ انٹیاتھوک بازارضلع گونڈہ یوپی الھند

*مورخہ؛17/02/2020)*

*🖊اعلی حضرت زندہ باد گروپ🖊*

*رابطہ؛📞9918562794)*

ا________(🖊)__________

*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*

*منجانب؛منتظمین اعلی حضرت زندہ باد گروپ محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری؛*

ا________(🖊)___________

 *📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*

*میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👇🏻*

*https://wa.me/+919918562794*


*اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ میں جواٸن ہونے کے لٸے اس لنک پرکلک کریں👇🏻* https://chat.whatsapp.com/HS1Tjz5VQKQ6MI1cBbRGam


*ٹیلی گرام گروپ میں جواٸن ہونے کےلٸے اس لنک پرکلک کریں:👇*

  http://T.me/AalahzratZindabadGroup

*گوگل پر پڑھنے کے لئے اس لنک پرکلک کریں👇🏻👇🏻*

https://amjadigroup.blogspot.com/

ا________(🖊)__________

© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.