توتلےکی اقتداکرنادرست ہےیانہیں جبکہ اس کے الفاظ صاف نہیں نکلتےہیں
السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
ومغفرتہ وجنّتہ
سوال توتلے یعنی وہ شخص جسکی آواز موٹی ہونے کی وجہ سے الفاظ صاف نانکلتے ہوں اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے بحوالہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں جلد از جلد مہربانی ہوگی
{ساںٔل *محمد اسلام رضا* قادری دیوسر ضلع سنگرولی ایم پی مدھیہ پردیش}
ا________(🖊)__________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*الجواب بعون الملک الوھاب*
لا یصح اقتداء غیر الالثغ بہ و حرر
غیر تو تلے کی اقتداء توتلے کے پیچھے درست نہیں
الحلبی و ابن الشحنۃ انہ بعد بذل جھدہ دائما حتما کالامی فلو یؤم الامثلہ ولا تصح صلوتہ اذاامکنہ الاقتداء بمن یحسنہ او ترك جھدہ او وجد قدرالفرض مما لالثغ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ملتقطا
الثغ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی زبان سے ایك حرف کی جگہ دوسرا نکلے)حلبی اورابن شحنہ نے لکھا ہے کہ ہمیشہ کی حتمی کوشش کے بعد توتلے کا حکم اُمّی کی طرح ہے پس وُہ اپنے ہم مثل کا امام بن سکتا ہے (یعنی اپنے جیسے توتلے کے سوا دوسرے کی امامت نہ کرے) جب اچھی درست ادائیگی والے کی اقتداء ممکن ہو یا اس نے محنت ترك کردی یا فرض کی مقدار بغیر توتلے پن کے پڑھ سکتا ہے ان صورتوں میں اسکی نماز درست نہ ہوگی توتلے کے متعلق یہی مختار اورصحیح حکم ہے اور اسی طرح اس شخص کا بھی یہی حکم ہےجو حروفِ تہجی میں سے کوئی حرف نہ بول سکے یعنی صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اھ ملخصًا۔
*فتاوٰی محقق علّامہ ابوعبدﷲ محمد بن عبدﷲ غزی تمر تاشی میں ہے*
الراجع المفتی بہ عدم صحۃ امامۃ الالثغ لغیرہ [
راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ توتلے کی امامت غیر کے لئے جائز نہیں
*(📗ردالمحتار میں ہے*
من لا یقدر علی التلفظ بحرف من الحروف کالرھمٰن الرھیم والشیتان الرجیم والاٰلمین وایاك نابد و ایاك نستئین السرات،انأمت فکل ذلك حکمہ مامر من بذل الجھد دائما والا فلاتصح الصلٰوۃ بہ ملخصا۔
جو شخص حروف تہجی میں سے کسی حرف کے صحیح تلفّظ پر قادر نہ ہو مثلًا الرحمن الرحیم کی جگہ الرھمٰن الرھیم ،الشیطان کی جگہ الشیتان ، العالمین کی جگہ الآلمین ،ایاك نعبد کی جگہ ایاك نابد،نستعین کی جگہ نستئین ،الصراط کی جگہ السرات ،انعمت کی جگہ انأمت پڑھتا ہے ، ان تمام صورتوں میں اگر کوئی ہمیشہ درست ادائیگی کی کوشش کے باوجود ایسا کرتا ہے تو نماز درست ہوگی ورنہ نماز درست نہ ہوگی
*(📙فتاوٰی رضویہ جلد ششم)*
*حاشیہ طحطاویہ میں زیر قولہ بذل جھدہ دائما ہے*
قولہ دائما ای اناء اللیل واطراف النھار کما مرعن القھستانی
ان کے قول دائمًا کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات کے حصّوں اور دن کے اطراف میں بھر پور کوشش کرے جیسا کہ قہستانی کے حوالے سے گزرا
*📙ردالمحتار میں ہے*
قولہ دائما ای فی اٰناء اللیل واطراف النھار فمادام فی التصحیح والتعلم ولم یقدر علیہ فصلاتہ جائزۃ و ان ترك جھدہ فصلاتہ فاسدۃ کما فی المحیط وغیرہ قال فی الذخیرۃ وانہ مشکل عندی لان ما کان خلقۃ فالعبد لا یقدر علی تغییرہ اھ وتمامہ فی شرح المنیۃ
ان کے قول دائمًا سے مراد یہ ہے کہ رات اور دن کے اطراف میں تصحیح کی بھر پور کوشش کرے ،پس اگر وہ ہمیشہ تصحیح و تعلم میں بھر پور کوشش کے باوجود اس پر قدرت نہ رکھے تو اس کی نماز درست ،اور اگر وہ کو شش ہی ترك کردے تو اس کی نماز فاسد ہوگی *جیسا کہ محیط وغیرہ میں ہے، ذخیرہ میں* کہا یہ میرے نزدیك مشکل ہے کیونکہ جو چیز فطری اور خلقی ہو بندہ اس کی تبدیلی پر قادر نہیں ہوسکتا اور اس پر تفصیلی گفتگو شرح منیہ میں ہے
*غنیہ میں ہے*
قال صاحب المحیط المختار للفتوٰی انہ ان ترك جھدہ فی بعض عمرہ لایسعہ ان یترك فی باقی عمرہ ولو ترك تفسد صلٰوتہ قال صاحب الذخیرۃ انہومشکل عندی الخ وذکر فی فتاوٰی الحجۃ مایوافق المحیط فانہ نو علی جواب الفتاوٰی الحسامیۃ ماداموافی التصحیح والتعلم با للیل
*صاحب المحیط نے کہا ہے* یہ مختار للفتوٰی ہے اوراگر اس نوع عمر کے بعض حصّے میں یہ کوشش ترك کردی ہو تو باقی عمر میں ترك کی گنجائش نہیں اگر ترك کرے گا تو نماز فاسد ہوگی ، *صاحب الذخیرہ نے کہا* میرے نزدیك یہ بہت مشکل ہے الخ فتاوٰی حجہ میں جو کچھ ہے وہ محیط کے موافق ہے کیونکہ انہوں نے فتاوٰی حسامیہ کے جواب پر کہا ہے کہ
والنھار جازت صلٰوتھم واذاترکو االجھد فسدت اھ،
وبمعناہ فی *فتاوٰی قاضی خان* فالحاصل ان اللثغ یجب علیہم الجھد دائما ھذا ھوالذی علیہ الاعتماد اھ ملخصا
جب وہ دن رات اس کی تصحیح اور سیکھنے میں کوشاں رہیں تو ان کی نماز درست ہوگی ، اور جب کوشش ترك کردیں گے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔اھ،فتاوٰی قاضی خان میں بھی اسی معنی میں ہے الغرض توتلے پر دائمی کوشش لازم ہے اور اسی پر اعتماد ہے اھ ملخصا
خلاصہ میں ہے
ان کان یجتھد اٰناء اللیل والنھار فی تصحیحہ ولا یقدر علی ذلك فصلاتہ جائزۃ وان ترك جھدہ فصلا
تہ فاسدۃ الا ان یجعل العمرفی تصحیحہ ولا یسعہ ان یترك جھدہ فی باقی عمرہ
تصحیح میں ہے جب دن رات کوشش کرتا رہا مگر وہ قدرت حاصل نہ کر پایا تو اس کی نماز درست ہے اگر اس نے کوشش ترك کردی تو نماز فاسد ہوگی۔ہاں اگر عمر کا کچھ حصّہ تصحیح میں صرف کرے اور درست کی قدرت حاصل نہ ہو تو باقی عمر میں تصحیح کی کوشش ترك کرنے کی گنجائش نہیں
*اسی طرح فتح القدیر فصل القرأت اور اسی کے قریب مراقی الفلاح میں ہے:* حلیہ میں ہے
الا ان ھذاالشق الثانی کما قال صاحب الذخیرۃ مشکل لان ماکان خلقۃ فالعبد لایقدر علی تغییرہ قلت وکذا اذاکان لعارض لیس ممایزول عادۃ واذاکان کذلك لا یعول فی الفتوی علی مقتضی ھذاالشرط ومن ثمہ ذکر
فی خزانۃ الاکمل فی سیاق النقل عن فتاوی ابی اللیث لو قال الھمدﷲ اوکل ھواﷲ احد جاز اذالم یقدر علی ٖغیر ذلك او بلسانہ عقلۃ قال الفقیہ فان لم تکن بلسانہ عقلۃ ولکن جری علی لسانہ ذلك لا تفسد انتھی فلم یذکر ھذا الشرط وان کان بعد ذلك ذکرہ عن ابراھیم بن یوسف والحسین بن مطیع
شرط کے مقتضٰی کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خزانۃ الاکمل میں فتاوٰی ابوللیث سے نقل کرتے ہوئے کہا اگر نمازی نے الھمد ﷲ یا کل ھواﷲ احد پڑھ لیاتو جائز ہے بشرطیکہ وہ اس کے غیر پر قادر نہ ہو یا اس کی زبان میں رکاوٹ(لکنت) ہوفقیہ(ابوللیث) نے کہا اگر زبان میں رکاوٹ(لکنت) نہ تھی لیو اس کی زبان پر یہ چیز ازخود جاری ہوگئی تو نماز فاسد نہیں ہوگی انتہی پس انھوں نے یہ شرط ذکر نہیں کی اگروہ اس کے بعد والوں نے ابراہیم بن یوسف اور حسین بن مطیع کے حوالے سے ذکر کی ہے
اُسی میں ہے
قد عرفت اٰنفاانہ لاینبغی اشتراط الاجتھاد فی ذلك لمن ھو فیہ خلقۃ او لعارض لیوع ممایزول عادۃ۔
ابھی آپ نے پڑھا کہ اس شخص کے لئے کوشش کرنے کی شرط لگانا مناسب نہیں جس میں وہ چیز خلقۃً (فطرۃً) ہویا ایسے عارضہ کی وجہ سے جو عادۃً زائل نہیں ہوتا ۔
*📕طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے*
کلام ابن امیر الحاج یفید ان ھذاالشرط فیہ خلاف والاکثرلم یذکروہ لان فیہ حرجا عظیما اھ اقول ورأیتنی کتبت علی ھامش حاشیتہ علی المراقی مانصہ اقول رب ماکان خلقۃ یتبدل بالتکلف ورب مالا یتوقع یاتی الجھد فیہ بالفرج، ولعل القول الفصل
ابن امیر الحاج کے کلام سے پتا چلتا ہے کہ اس شرط میں اختلاف ہے اور اکثر علماء نے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں حرج عظیم ہے اھ میں کہتا ہوں مجھے یاد آرہا ہے کہ مراقی الفلاح پرطحطاوی کے حاشیہ پر میں نے حاشیہ لکھا ہے عبارت یہ ہے میں کہتا ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز خلقۃً و فطرۃً ہو اسے
ایجاب الجھد ماکان یرجی التعلم ولو رجاء ضعیفا، فاذاأیس تحقیقا لاتبر ماوسعہ الترك لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا و فیہ رعایۃ الجانبین ویؤید عدم خزانۃ الاکمل اذا قرأمکان الظاء ضادااومکان الضاد ظاء فقال القاضی المحسن الاحسن یقال ان تعمد ذلك تبطل صلٰوتہ عالما کان او جاھلا وان جری علی لسانہ اولم یکن یمیز بین الحرفین فظن انہ ادی الکلمۃ کما ھی جازت صلاتہ وھو قول محمد بن مقاتل وبہ کان یفتی الشیخ اسمعیل الزاھد لان السنۃ الاکراد و اھل السوادوالاتراك غیر طائعۃ فی مخارج ھذہ الحروف وفی ذلك حرج عظیم والظاھر ان ھذامجمل مافی جمیع الفتاوٰی اھ با ختصار ،فقد عذرھم بعجزھم ولم یلزمھم ادامۃ جہد لئن تبتعت فعساك تجد شواھدہ بوفر وکثر واﷲ یحب الیسر ویقبل العذر وھو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
تکلفًا بدلا جاسکتا ہے اور بعض غیر متوقع چیزوں کو آسانی سے بجا لایا جا سکتا ہے شاید قول فیصل یہ ہوکہ اس وقت تك کوشش واجب ہے جب تعلم کے ذریعے تبدیلی کی امید ہو اگر چہ ضعیف سی امید ہی سہی ، اور جب یقینا نا امیدی ہوجائے تو اب ترك کی گنجائش کا نہ ہونا زیادتی ہے، اﷲ تعالٰی کسی ذات کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اور اس میں جانبین کی رعایت ہے اور دائمی طور پر کوشش کا واجب نہ ہونا بھی اس کی تائید کرتا ہے۔حلیہ میں خزانۃ الاکمل کے حوالے سے کہ ظاء کی جگہ ضاد یا ضاد کی ظاء پڑھا تو قاضی محسن نے کہا کہ احسن یہ ہے کہ اگر ایسا عمدًا کیا تو کہا جائے نماز باطل ہوگئی خواہ وہ شخص عالم ہو یا جاہل، اور اگر زبان پر ازخود جاری ہوگیا یا وہ ان دونوں حروف کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا کہ وہ سمجھ رہا ہے کہ کلمہ اسی طرح ادا ہوگیا جس طرح ہونا چاہئے تھا تو اسکی نماز درست ہوگی، اور یہی محمد بن مقاتل کا قول ہے، اور اسی پر شیخ اسماعیل الزاہد نے فتوٰی جاری کیا ، کیونکہ کرد،اہل سواد(عراق) اور ترك کے لوگوں کی زبانیں ان حروف کے مخارج کی صحیح ادائیگی نہیں کر سکتیں ، اور اس میں حرج عظیم ہے اور ظاہر یہ ہے یہ تمام فتاوٰی کے بیان کا اجمال ہے اھ مختصرًا پس ان کو عجز کے پیش نظر معذور گردانا اور ان پر دائمی کوشش لازم نہیں کی، اگر آپ محنت سے تلاش کریں گے تو بہت سے اسکے شواہد آپ کو مل جائیں گے۔اﷲ تعالٰی آسانی کو پسند کرتا ہے اور عذر قبول فرماتا ہے ، اور وُہ پاك ذات ہی سب سے زیادہ جاننے والی ہے
*صغیری میں ہے*
لو قرأا
لھمدﷲ بالھاء مکان الحاء الحکم فیہ کالحکم فی الالثغ علی مایاتی قریبااھ ملخصا
اگر کوئی حاء کی جگہ ھاء کہتے ہوئے الھمدُﷲ پڑھے تو اس کا حکم توتلے کے حکم کی طرح ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اھ ملخصًا
پھر فرمایا
المختار فی حکمہ یجب علیہ بذل الجھد دائما فی تصحیح لسانہ ولا یعذر فی ترکہ وان کان لاینطق لسانہ فان لم یجد اٰیۃ لیس فیھا ذلك الحرف الذی لایحسنہ تجوز صلاتہ بہ ولا یؤم غیرہ فھوبمنزلۃ الامی فی حق من یحسن ما عجز ھو عنہ واذا امکنہ اقتدأہ بمن یحسنہ لاتجوز صلاتہ منفردا وان وجد قدرما تجو زبہ الصلاۃ ممالیس فیہ ذلك الحرف الذی عجز عنہ لاتجوز صلاتہ مع قرأۃ ذلك الحرف لان جواز صلاتہ مع التلفظ بذلك الحرف ضروری فینعدم بانعدام الضرورۃ ھذا ھوالصحیح فی حکم الالثغ ومن بمعناہ ممن تقدم اٰنفا
مختار یہی ہے کہ اس پر تصحیح زبان کے لئے ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اور اس کے ترك پر معذور نہیں سمجھا جائے گا اگرچہ اس کی زبان کا اجراء درست نہ ہو جس کو وُہ اچھی طرح ادا نہیں کرسکتا تو اب اس کی نماز اس آیت سے درست ہوگی البتہ وُہ غیر کی امامت نہ کروائے ، پس وہ صحیح ادائیگی کرنے والے کے حق میں امّی کی طرح ہوگا اس آیۃ میں جس سے عاجز ہے، اور جب مذکورہ شخص کو ایسے آدمی کی اقتدا ممکن ہو جوصحیح ادا کرسکتا ہے، تو اس کی تنہا نماز نہ ہوگی، اور اگر وہ ایسی آیۃ پر قادر ہے جس میں مذکورہ حرف نہیں تو اس حرف والی آیۃ پڑھنے کی وجہ سے نماز نہ ہوگی کیونکہ اس حر ف کا درست پڑھنا نماز کے لئے ضروری تھا جب وہ تقاضا معدوم ہے تو نماز کا وجود بھی نہ ہو گا ۔توتلے اور اس جیسے شخص کے لئے یہی حکم ہے اور یہی صحیح ہے
ولوالجیہ میں ہے
ان کان یمکنہ ان یتخذ من القراٰن
اگر توتلے کے لئے قرآن مجیدکے دیگر مقامات سے
اٰیات لیس فیھا تلك الحروف یتخذ الا فاتحۃ الکتاب فانہ لا یدع قرأتھا فی الصلٰوۃ انتھی اقول ولا منشأ لاستثناء الفاتحہ الا الاختلاف فی رکنیتھا فیترأای لی تقیید ذلك فی المکتوبات بالاولیین حتی لو قرأفی الاخریین فسدت واﷲ تعالٰی اعلم۔
آیات کا پڑھنا ممکن ہو جن میں ایسے حروف نہیں تو وہ انھیں پڑھ لے ماسوا فاتحہ کے ، کیونکہ اس کی قرأت نماز میں ترك نہیں کی جاسکتی انتہی ۔ میں کہتا ہوں یہاں فاتحہ کا استثناء اس لئے ہے کہ اس کی رکنیت میں اختلاف ہے پس مجھ پر یہ با ت واضح ہوئی کہ اسے فرض کی ابتدائی دو۲ رکعتوں کے ساتھ مقید کرنا ضروری ہے حتٰی کہ اگر آخری دو ۲ رکعتوں میں پڑھے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی
*(📘فتاوی رضویہ جلد ششم )*
*واللہ اعلم باالصواب؛*
ا________(🖌)__________
*کتبـــہ؛*
**حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی رضوی قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی* دولھاپورپہاڑی پوسٹ وتھانہ انٹیاتھوک بازارضلع گونڈہ یوپی الھند
*مورخہ؛21/02/2020)*
*🖊اعلی حضرت زندہ باد گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9918562794)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین اعلی حضرت زندہ باد گروپ محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی بلرامپوری؛*
ا________(🖊)___________
*📚اعلیٰ حضرت زندہ باد گــــروپ📚*
*میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👇🏻*
*https://wa.me/+919918562794*
*اعلیٰ حضرت زندہ باد گروپ میں جواٸن ہونے کے لٸے اس لنک پرکلک کریں👇🏻* https://chat.whatsapp.com/HS1Tjz5VQKQ6MI1cBbRGam
*ٹیلی گرام گروپ میں جواٸن ہونے کےلٸے اس لنک پرکلک کریں:👇*
http://T.me/AalahzratZindabadGroup
*گوگل پر پڑھنے کے لئے اس لنک پرکلک کریں👇🏻👇🏻*
https://amjadigroup.blogspot.com/
ا________(🖊)__________



تبصرے