نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں لگاناکیسا؟

 غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں لگاناکیسا؟💎*




 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں لگاسکتے ہیں یا نہیں غالباً اس متعلق کسی حضرت کا فتویٰ نظر نواز ہوا تھا اگر کسی صاحب کے پاس ہوتو عنایت فرمائیں یا کوئی صاحب پھر سے تحریر فرمادیں کرم ہوگا

ساٸل معین خان 

ا________{❣}___________

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

*الجواب بعون الملک الوھاب؛

حضور سیدی سرکار اعلی حضرت تحریر فرماتے ھیں کافر اگر اس طور پر روپیہ دیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ھے یا اسکے سبب مسجد میں مداخلت رھے گی تو لینا جائز نہیں

اور اگر نیاز مندانہ طور پر پیش کرتا ھے تو حرج نہیں جب کہ اس کے عوض کافر کی طرف سے کوئی چیز خرید کرنہ لگائی جائے بلکہ مسلمان بطور خود خریدیں یا راہبوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اور اس میں بھی صحیح طریقہ یہ ھے کہ کافر مسلمان کو ہبہ کردے مسلمان اپنی طرف سے لگائیں  

نیز فرماتے ھیں اگر اس نے مسجد بنوانے کی صرف نیت سے مسلمان کو روپیہ دیا یا روپیہ دیتے وقت صراحتاً کہہ بھی دیا کہ اس سے مسجد بنوادو اور مسلمانوں نے ایسا ہی کیا تو وہ ضرور مسجد ھے اور اس میں نماز پڑھنا بھی درست ہے 


*{📚فتاویٰ رضویہ شریف جلد ششم قدیم صفحہ 484}*


صورت مذکورہ میں مسجد اللہ کا گھر ھے اور مسلمانوں کی عبادت گاہ ھے لہذا مسجد یا مدرسے کو مسلمانوں کے حلال و پاک مال سے تعمیر کیا جائے غیر مسلم اگر کچھ رقم تعمیر مسجد یا مدرسہ میں دے تو اس سے مسجد مدرسہ کے بیت الخلا و غسل خانہ غیر معمولی چیزیں جس پر عبادت نہ کی جاتی ہو بنانا جائز ھے


*{📙احسن الفتاویٰ المعروف فتاویٰ خلیلیہ جلد دوم ص 566}*


فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے

اگر مسجد کے تعمیری کام میں کوئی کافر حصہ لینا چاہتا ہے اور اس کے لئے رقم دے تو اسے مسجد کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں لیکن اگر کافر سے چندہ لینے کے سبب اس بات کا اندیشہ ہو کہ مسلمانوں کو بھی مندر کی تعمیر٬ رام لیلا٬ گنپتی اور ان کے دوسرے مذہبی پروگراموں میں چندہ دینا پڑے گا یا کافر کی تعظیم کرنی پڑے گی تو ایسی صورت میں کسی بھی کام کے لیے ان سے چندہ لینا جائز نہیں لیکن چندہ ان سے بہرحال ہر گز نہ مانگے حکم مذکور اس صورت میں ہے جبکہ وہ خود دے


*{📗فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر 146}*


فتاویٰ فیض الرسول میں ہےجائز ہے لیکن آئندہ کسی شرعی قباحت کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو احتراز لازم ہے 


*{📘فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ نمبر 588}*


 حضرت علامہ مفتی بحرالعلوم تحریر فرماتے ہیں کہ دیوبندیوں وہابیوں سے مسجد و مدرسہ کے لئے چندہ مانگنا نہ چاہیۓ از خود دے تو مسجد میں لگانا نہ چاہیۓ, مدرسہ کے غریب طلبہ البتہ اس قسم کی امداد کے مستحق ہیں ان پر صرف کرنا چاہیۓ 

 امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے آداب و شرائط ہیں 


*{📗فتاویٰ بحرالعلوم جلد دوم صفحہ نمبر226}*

*واللہ اعلم;*



 ا________(🖌)__________

*کتبـــہ؛*

*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک بازارگونڈہ یوپی الھند؛*

*مورخہ؛17/2/2020)*

*🖊🖊*

*رابطہ؛📞9918562794)*

ا________(🖊)__________

*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*

*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*

ا________(🖊)___________

© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.