نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مکروہ کا جب مطلق لفظ بولا جاے تو اس سے کیا مرادہوتا ہے

*🍀السلام علیکم و رحمتہ اللہ*

*علماء حضرات کی بارگاہ میں یہ عرض ہے کہ جب مطلقا* *مکروہ کا لفظ استعمال ہو فقہ کی کتب یا دیگر جگہ تو اس* *وقت مکروہ سے کونسی کراہت مراد ہو گی؟*

*🍀سائل سلمان*🍀

*الجواب اور یہ قاعدہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ مکروہ کا لفظ جب مطلق ذکر کیا جائے*

*تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاعدہ عام نہیں ہے،*
 *بلکہ بسااوقات مکروہ کا لفظ مکروہِ تنزیہی*
*کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے جہاں مکروہ کا لفظ مطلق ذکر کیا جائے وہاں قرائن و دلائل میں غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہاں مکروہِ تحریمی مراد ہے یا مکروہِ تنزیہی؟*

 *جیسا کہ مکروہاتِ صلوٰة کے آغاز میں شیخ ابن نجیم نے البحر الرائق میں،*

*اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ذکر کیا ہے )*

*📚دیکھئے: البحرالرائق ج:۲ ص:۲۰،*

*📚رد المحتار ج:۱ ص:۶۳۹*

*🍀واللہ اعلم*🍀

*🍀✍ازقلم حضرت علامہ ومولانامحمداسماعیل خان امجدی مد ظلہ العالی والنورانی  خادم التدریس دارالعلوم شہید اعظم دولہا پور پہاڑی انٹیا تھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی*🍀

*اعلی حضــرت زندہ بادگروپ اہل علم کےلئے*
*☎9918562794*

*🍀المشتہـــر محمد ایــو رضـا خان*🍀

تبصرے

Unknown نے کہا…
سبحان اللهﷻ
© 2020 Amjadi group

Designed by Open Themes & Nahuatl.mx.